عالم شباب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عالم جوانی، شباب کا زمانہ۔ "اب بھی وہ اتنے ہی چست اور چوکس ہیں جتنے کہ عالمِ شباب میں تھے۔"      ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٣١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عالم' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگانے کے بعد عربی ہی سے مشتق اسم 'شباب' لگانے سے مرکب 'عالم شباب' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٣٢ء کو "دیوان رند" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عالم جوانی، شباب کا زمانہ۔ "اب بھی وہ اتنے ہی چست اور چوکس ہیں جتنے کہ عالمِ شباب میں تھے۔"      ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٣١ )

جنس: مذکر